ہوناور3/مارچ (ایس او نیوز) ہوناور تعلقہ کے کاسرکوڈ ٹونکا میں حیدر آباد کی ایک نجی کمپنی کی طرف سے تجارتی بندرگاہ تعمیر کرنے کے منصوبے سے پریشان عوام نے اس کے خلاف عدالت کا دروازہ کھٹکھٹانے کا متفقہ فیصلہ کیا ہے۔
شراوتی ندی اور بحیرہئ عرب کے سنگم پر تجارتی بندرگاہ تعمیر کرنے کے خلاف شراوتی ندی کے اطراف بسنے والے اور ماہی گیری کے علاوہ دیگر مقاصد کے لئے اس ندی کا استعمال کرنے والے عوام نے تقریباً103مختلف اداروں اور تنظیموں کے اشتراک سے ایک متحدہ محاذ قائم کرلیا ہے اور اپنے اجلاس میں فیصلہ کیا ہے کہ شراوتی ندی کو استعمال کرنے والے ایک فریق کے طور پر حیدرآباد کی نجی کمپنی کی آمد کی مخالفت کی جائے گی۔ عوام کا کہنا ہے کہ یہاں تجارتی بندرگاہ قائم کرنے کے بعد میگنیز کی رفت شروع ہوجائے گی جس سے تعلقہ کے عوام، جانوراور پیڑ پودوں کے ساتھ پورے ماحول پر برے اثرات پڑیں گے اور آلودگی میں بہت زیادہ اضافہ ہوجائے گا۔
اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے مشہور تاجر جے ٹی پائی کہا کہ تجارتی بندرگاہ کے تعمیری منصوبے کے خلاف عدالت سے حکم امتناع (اسٹے) حاصل کریں گے اور رکن اسمبلی ورکن پارلیمان کی معرفت سے حکومت پراس منصوے کو رد کرنے کے لئے دباؤ ڈالیں گے۔کیونکہ اس بندرگاہ کی تعمیر کے بعد روزانہ یہاں پرپتھروں کے تودے اور میگنیز بھری ہوئی 1500سے2000لاریوں کی آمد ورفت شروع ہوجائے گی۔جس سے عام زندگی بری طرح متاثر ہوجائے گی۔
سینئر صحافی جی یو بھٹ نے کہا کہ ہوناور میں ماہی گیری کی بندرگاہ کو تباہ کرکے تجارتی بندرگاہ تعمیر کرنے کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔ماہی گیری کی وجہ سے ملک کی معیشت کو کافی غیر ملکی سرمایہ ملتا ہے۔ کہیں بھی ماہی گیر بندرگاہ کے ساتھ تجارتی بندرگاہ تعمیر نہیں کی جاتی۔ اس لئے ہوناور میں تجارتی بندرگاہ کی ضرورت نہیں ہے۔ ایک اور صحافی کرشنا مورتی ہیبار نے کہا کہ ضلع شمالی کینرا میں سی برڈ، نیشنل ہائی وے کی توسیع، ریلوے، سی آر زیڈ جیسے کئی منصوبوں کی وجہ سے عوام بری طرح متاثر ہوگئے ہیں۔ اس لئے اب تجارتی بندرگاہ کے خلاف متحد ہوکر عوام کو اپنی آواز بلند کرنا چاہیے۔
موحولیات کے ماہر ڈاکٹر پرکاش میستاسے اس منصوبے سے ماحولیات، ندی کے پانی، مچھلیوں اور دیگر چیزوں پر ہونے والے منفی اثرات کے سلسلے میں تفصیلی روشنی ڈالی۔اور کہا کہ یہ عوامی زندگی کے لئے ایک ہلاکت خیز منصوبہ ثابت ہوسکتا ہے۔ماہی گیروں کے لیڈر اشوک کاسرگوڈ نے کہا کہ اس منصوبے کی وجہ سے صرف ماہی گیروں کے لئے ہی نہیں بلکہ تعلقہ کے تمام عوام او رماحول کے لئے نقصان دہ اثرات سامنے آئیں گے۔اس لئے عوام کو بیدار ہوکر اس کے خلاف جدوجہد کرنا ہوگا۔ ماہی گیر لیڈر لوکیش میستا نے کہا کہ شراوتی ندی سے ریت نکالنے کا سلسلہ بھی بند کیاجانا چاہیے۔ کیونکہ اس کی وجہ سے مچھلیوں کی افزائش اور زیر آب زندگی پر نقصان دہ اثرات مرتب ہوتے ہیں۔
میٹنگ کے دوران دستخطی مہم چلانے کے بعد صدر ہند کو میمورنڈم روانہ کرنے کی بھی تجویز منظور ہوئی اس کے علاوہ بڑے پیمانے پر اس منصونے کے خلاف احتجاجی مظاہرہ کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔روٹیرین دنیش کامت، سینئر سماجی خدمت گار وسنت کرکیکر، تاجر کرشنا مورتی بھٹ، شیوانی، پرشین بوٹ مالکان کی تنظیم کے صدر حمزہ پٹیل، ماہی گیروں کی تنظیم کے صدر گنپتی تانڈیل، ٹرالر بوٹ یونین کے صدر رامچندرا میستا اور دیگر لیڈران موجود تھے۔